کیا حاکم محکوموں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں ؟ چیف جسٹس

News Desk

سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہوئی دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کیوں نہ اعظم سواتی کو ملک کے لیے ایک مثال بنائیں۔

اعظم سواتی کو سزا ملے گی تو شعور آئے گا۔بچوں اور خواتین کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا، آپ حاکم ہیں، محکوم کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں ؟ بھینس دراصل آپ کے فارم ہاؤس میں داخل ہی نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا آئی جی صاحب آپ نے اب تک اس معاملے پر کیا کیا ؟ یہ آپ کی ایک ماہ کی کارکردگی ہے ؟ نئے آئی جی نے آتے ہی سرنگوں کر دیا ہے۔

جس پر آئی جی اسلام آباد نے کہا سر یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کوئی زیر التوا نہیں تھا، آپ کو دیکھنا تھا اس معاملے میں کیا کرنا ہے۔ اعظم سواتی کے وکیل نے کہا عدالت نے میرے موکل سے 10 سوال پوچھے تھے، پہلا سوال تھا کیا آئی جی کا تبادلہ اعظم سواتی کے دباؤ پر کیا گیا، جے آئی ٹی نے کہا کہ تبادلہ پہلے ہی طے تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا فون نہ اٹھانے پر آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ کیا گیا، حکومت کو جاکر بتائیں عدالتی نظرثانی کیا ہوتی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی اسلام آباد سے کام نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لیے کوئی کارروائی نہیں کر رہا تاہم عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کیا کہ آپ کو فوجداری کارروائی سے کسی نے نہیں روکا تھاصدر سپریم کورٹ بار نے اعظم سواتی کو معاف کرنے کی درخواست کی اور کہا اعظم سواتی میرے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، جرم ہوا ہے لیکن اس پر اتنی بڑی سزا نہ دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ارب پتی آدمی ان سے مقابلہ کر رہا ہے جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے ہیں۔ تحریک انصاف نے اب تک اعظم سواتی کے خلاف کیا ایکشن لیا ہے ؟چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اعظم سواتی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ؟ اعظم سواتی کے پیسے ہمیں ڈیم فنڈ کے لیے بھی نہیں چاہیں۔سپریم کورٹ نے آئی جی تبادلہ کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *