اکستان مسلم لیگ (ن) قبل ازوقت الیکشن کےلئے ہمہ وقت تیارہے



News Desk

وزیراعظم عمران خان نے قبل ازوقت الیکشن کا صرف اشارہ دیا تو  مسلم لیگ (ن) نے  انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ جس پر ن لیگ کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ قبل ازوقت الیکشن کےلئے ہمہ وقت تیارہیں ۔

احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں 53 حلقوں میں جیت کا مارجن مسترد ووٹوں سے کم ہے۔ فافن رپورٹ سے ظاہرہوتا ہے ان حلقوں میں دھاندلی ہوئی۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا کہ قبل ازوقت انتخابات کی بات پرعوام نے خوشی کااظہارکیا عوام خوش ہے کہ جلد ہماری جان چھوٹنے والی ہے۔قائد (ن) لیگ نے کہا کہ مسلم لیگ( ن) قبل ازوقت الیکشن کےلئے ہمہ وقت تیارہے ہم سنجیدہ سیاست کے قائل ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں اینکرپرسن سے ملاقات کے دوران قبل از وقت انتخابات کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قبل ازوقت الیکشن ہوسکتے ہیں۔ کپتان کو اپنی ٹیم کا پتہ ہے۔قلمدان تبدیل بھی ہوسکتے ہیں واپس بھی لئے جاسکتے ہیں۔کابینہ میں ردوبدل کرنا پڑی تو کروں گا۔ جو بیورو کریسی یا وزراء کام نہیں کریں گے وہ گھر جائیں گے۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت سمجھتی ہے کہ آئندہ انتخابات کا اعلان کسی بھی وقت ممکن ہے۔ چونکہ موجودہ حکومت عوامی و معاشی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔تمام طبقات حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں حکومتی پالسیوں کیخلاف تحریک بھی چلاسکتی ہیں۔


عمران خان نے واضح کہا کہ پاک فوج تحریک انصاف کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی طرح انہوں نے جنوبی پنجاب کے صوبہ سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ ضروری تونہیں مڈٹرم انتخابات بھی ہوسکتے ہیں۔اسی طرح وزیراعظم عمران خان کے ایک اور جگہ کہا کہ قانون سازی کیلئے صدارتی آرڈیننس بھی لاسکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے ان بیانات سے سیاسی جماعتوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے کہ ایک جمہوری وزیراعظم کیسے کہہ سکتا ہے کہ فوج ان کی پارٹی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ پاک فوج ملک کا آئینی ادارہ اور تمام سیاسی جماعتوں کی طرح ملک بھرکی عوام کیلئے معتبرادارہ بھی ہے۔کوئی ایک جماعت پاک فوج کواپنے منشور کے ساتھ کیسے جوڑ سکتی ہے؟ اسی طرح عمران خان کے جلد انتخابات سے متعلق بھی سیاسی جماعتیں مڈٹرم انتخابات بارے سوچنے پر مجبور ہوگئی ہیں کہ عمران خان کی موجودہ معاشی بحران کے تناظر میں اس طرح کا بیان دینے کا کیا مقصد ہے؟ جس پر سیاسی جماعتوں نے نچلی سطح پرپارٹیوں کو فعال بنانے کی تیاری شروع کردی ہے۔


تاکہ اگر کوئی اس طرح کا معاملہ ہوا توفوری طور انتخابات کیلئے تیار ہوں۔جبکہ صدارتی آرڈیننس کے بیان پر بھی مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔پیپلزپارٹی کے رہنماء شیری رحما ن نے کہا کہ حکومت کے غیرآئنی اقدام کی سینیٹ میں مخالفت کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *