رضا کارانہ طور پر اپنی وزارت سے الگ ہونے کیلئے تیار ہوں، اعظم سواتی

News Desk

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی نے وزیر اعظم کو وزارت سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی ۔انہوں نے کہا کہ میں وزارت سے الگ ہونے کے لیے تیار ہوں۔چیف جسٹس نےگزشتہ سماعت پراعظم سواتی کے خلاف آرٹیکل 62 ون ایف کی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اعظم سواتی کو قصور وار قرار دیا، اور کہا کہ وفاقی وزیر  نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا جب کہ ان کے ساتھ خصوصی سلوک کیا گیا۔

اعظم سواتی نے نیاز محمد کی فیملی کے ساتھ غیر ضروری اختیارات کا استعمال کیا جب کہ اعظم سواتی کے لیے اثرو رسوخ کا بھی استعمال کیا گیا۔صدر سپریم کورٹ بار نے اعظم سواتی کو معاف کرنے کی درخواست کی اور کہا اعظم سواتی میرے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، جرم ہوا ہے لیکن اس پر اتنی بڑی سزا نہ دیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ارب پتی آدمی ان سے مقابلہ کر رہا ہے جو 2 وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے، ان کو سزا ملے گی تو شعور آئے گا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پوچھا تحریک انصاف نے اب تک اعظم سواتی کے خلاف کیا ایکشن لیا ؟ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا نیب قوانین کے تحت معاملہ نہیں آتا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا پھر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت لڑائی کریں۔اس ساری صورتحال کے بعد وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے کہاہے کہ میں رضا کارانہ طور پر اپنی وزارت سے استعفیٰ دینے کو تیار ہوں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *