پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔‎

News Desk

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کی جنگ بہت لڑ چکا۔اب وہ کریں گے جو ہمارے ملک کے مفاد میں ہوگا۔ ٹرمپ کو ٹوئٹر پیغامات ٹوئٹر وار نہیں۔امریکی صدر کو تاریخی حقائق سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں طالبان کی کوئی پناگاہیں نہیں ہیں۔چین جیسے تعلقات امریکا سے بھی چاہتے ہیں امریکا پاکستان کو بطور ہتھیار استعمال کرے ایسے تعلقات نہیں چاہتے۔

وزیراعظم نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ ہمسایہ ملک میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ماضی میں یہ موقف اپنانے پر مجھے طالبان خان کہا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ ڈرون حملے ہماری خودمختاری کے خلاف ہیں۔ ان حملوں میں ایک دہشت گرد اور دس دوست اور ہمسائے مرتے ہیں کونسا ملک اپنے اتحادی پر بم پھینکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا اسامہ کی ہلاکت کے معاملے پر پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا گیا روس جب افغانستان سے نکلا تو امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔ پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی آمدورفت مشکل ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں رہا. ہم نے امریکہ کی جنگ میں زیادہ نقصان اُٹھایا ہے اسی لیے اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہو گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے۔
سپر پاور کے ساتھ اچھے تعلقات کون نہیں چاہے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا الزام عائد کیا تھا لیکن میں جب حکومت میں آیا تو میں نے سیکیورٹی فورسز سےاس معاملے پر مکمل بریفنگ لی اور وقتاً فوقتاً امریکہ سےکہا کہ بتائیں پاکستان میں پناہ گاہیں کہاں ہیں تاکہ ان علاقہ جات اور مبینہ پناہ گاہوں کو چیک کیا جا سکے۔پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹویٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا۔ میں نے اپنے جواب میں لکھا تھا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق پتہ ہونے چاہئیں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہرزہ سرائی کا سوشل میڈیا پر جواب ٹویٹر جنگ نہیں تھی۔
عمران خان نے پاک افغان تعلقات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ 1989ء میں جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تو امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان کے معاملے پر جلد بازی نہ کرے افغانستان میں پہلے حالات ٹھیک ہونے چاہئیں اس کے بعد ہی تعمیر نو کے لیے حسب ضرورت اقدامات کیے جائیں ۔ انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *