کسی کو ہماری دفاعی صلاحیت پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ ‎

News Desk

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی الیکشن کے بعد حالات میں بہتری آ سکتی ہے بھارت اپنے سیاسی مقاصد اور انتخابات کیلئے ایسے بیانات دے رہا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اعتماد فوج نہیں بلکہ قوم دیتی ہے حکومت اور فوج کا تعلق سٹریٹجک لیول پر ہوتا ہے۔جس دن عوام کا اعتماد ختم ہوا، اسی دن نئی حکومت آ جائے گی، جس پارٹی کی بھی حکومت ہو گی فوج مانے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی موقع پر فوج نے حکومت کے فیصلے کو غلط نہیں کہا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ تحریک لبیک نے ریاست کے خلاف بات کی اب وہ ریاست کی حراست میں ہے تحریک لبیک کیخلاف ریاستی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی حد عبور نہ کریں کہ پھر ریاست کو اپنی رِٹ قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے پڑیں۔

آپریشن رد الفساد کے دوران ملک بھر میں کی گئی کارروائیوں کے اعدادشمار بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت 44 بڑے آپریشن کیے گئے جس کے دوران ملک سے 32 ہزار سے زائد ہتھیار ریکور کیے گئے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور وہاں فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ افواج پاکستان کی زیادہ تر توجہ بلوچستان کی جانب ہے تاکہ وہاں صورتحال بہتر ہو۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری واقع ہوئی ہے جس کا کریڈٹ پاکستان رینجرز سندھ کو جاتا ہے .جس نے جانفشانی سے کام کیا ہے اور اس شہر کی روشنیاں واپس لوٹائی ہیں جبکہ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی ایک زمانے میں جرائم کی شرح کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر تھا لیکن اب یہاں صورتحال بہت بہتر ہے، شہر میں دہشت گردی کے واقعات میں 99 فیصد جبکہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 93 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پی ٹی ایم سے متعلق انہوں نے کہا کہ پشتون  تحفظ موومنٹ والوں کے صرف 3 مطالبات تھے چیک پوسٹس میں کمی، مائنز کی کلیئرنس اور لاپتہ افراد کی بازیابی یہ وہ مطالبات ہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہے اور وہ کررہی ہے۔

ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی ایم والے ڈیڈ لائن کراس کریں گے تو ہم انہیں چارج کریں گے لیکن ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا ہوا ہے کیونکہ وہ دکھے ہوئے ہیں ان کے علاقے میں پندرہ سال جنگ ہوئی جس کا شکار ان کے بہت سے لوگ ہوئے، ان کے مسئلے سے ریاست یا فوج نے آنکھیں نہیں پھیریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *