خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

News Desk

لاہور کی  احتساب عدالت نے پیراگون سٹی اسکینڈل میں نون لیگ کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا ہے۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 40 کنال کی پلاٹنگ نہیں کی جاسکتی مگر سب پر پلاٹ بنادیے گئے، سوسائٹی کی رجسٹریشن جعلی ہے۔یب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نےعدالت کو بتایا کہ  ندیم ضیا مفرور ہے اور قیصر امین بٹ گرفتار ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا خواجہ سعد رفیق انکوائری میں پیش ہوتے رہے؟نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ خواجہ برادران پیش ہوتے رہے ہیں۔ وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ قیصرامین بٹ خواجہ سعد رفیق اور ندیم ضیا کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔عدالت میں تفتیشی افسر نے کہا ملزمان نے پیراگون کی ملکیت سے متعلق جھوٹ بولا، سعد رفیق اہلیہ کے نام پر سوسائٹی بنانے جا رہے تھے، سوسائٹی کی زمین سعد رفیق نے فروخت کی، پھلروان گاؤں کے قریب پیرا گوان سٹی کے نام سے سوسائٹی بنائی، پیراگوان سوسائٹی غیر قانونی ہے، ایل ڈی اے سے منظور نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے خواجہ برادران کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے خواجہ برادران کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ۔خواجہ سعد رفیق نے اپنے وکلا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی دہشت گرد تو نہیں ہیں جو ہزارو‍ں پولیس اہلکار اور رینجرز لگائی ہوئی ہے، عدالت میں لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے، گھر کا کھانا بند کر دیا گیا ہے، نیب میں واش روم کے اندر چٹخنی نہیں ہے، نیب نے گھر سے آیا ہوا کھانا واپس بھجوا دیا۔

انہوں نے کہا میرے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، میرے سیل میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، ہم دونوں بھائی کوئی دہشتگرد نہیں ہیں۔اس موقع پر لیگی کارکنان کے احتجاج کے پیش نظر عدالت کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *