آرمی پبلک اسکول پشاور پردہشت گردوں کے حملے کو 4 سال مکمل ہوگئے ‎

News Desk

16 دسمبر 2014 کو آج ہی کے دن پشاورمیں آرمی پبلک اسکول پردہشت گردوں نے حملہ کرکے معصوم بچوں کونشانہ بنایا اور100 سے زیادہ طلباء کوبے دردی سے شہید کردیا۔ شہدا کے والدین آج بھی صدمے سے نڈھال ہیں۔ جن والدین کے بچے بچ گئے وہ بھی اس ہولناک دن کوفراموش نہیں کرسکے۔ دہشت گردوں نے اسکول پرحملہ کرکے علم کی شمع بجھانا چاہی لیکن قوم کے حوصلے پست نہ ہوئے۔

16 دسمبر 2014ءکو تحریک طالبان پاکستان کے 7 دہشت گرد ایف سی کے لباس میں ملبوس ہو کر پشاور کے آرمی پبلک سکول میں پچھلی طرف سے داخل ہو ئے۔سکول میں داخل ہونے سے پہلے انہوں نے اس سوزوکی بولان ایس ٹی 41 کو آگ لگا دی جس میں وہ سکول تک آئے تھے۔ دہشت گرد خود کار ہتھیاروں سے لیس تھے جو سیدھے سکول کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے اور سیدھا فائر کھول دیا۔ہال میں اس وقت نویں اور دسویں کلاس کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جا ری تھی۔

سفاک دہشتگردوں نے معصوم بچوں کے خون سے وہ ہولی کھیلی کہ آج تک پاکستانی قوم کے دل پر لگنے والا یہ زخم مندمل نہیں ہوسکا۔ اس اندوہناک سانحے میں سکول کے بچوں اور اساتذہ سمیت 144 افراد شہید ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ساتوں دہشتگرد مارے گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

بچوں کو نور علم سے آراستہ کرنے والے سکول کی پرنسپل، اساتذہ اور دیگر عملہ بھی اپنے ہاتھوں سے سینچے گئے ان ننھے پودوں کو بچاتے بچاتے دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس کرب ناک دن کے اختتام پر شہر پشاور کی ہر گلی سے جنازہ اٹھا۔ 144 شہادتوں نے پھولوں کے شہر کو آہوں اور سسکیوں میں ڈبو دیا۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کے والدین کو اپنے پیاروں کا غم آج بھی کھوکھلا کر رہا ہے۔ شہدا میں ایک پرنسپل اور 16 سٹاف ممبرز سمیت 132 طلبہ شامل تھے۔

سانحہ اے پی ایس کے بعد حکومت پاکستان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ اس دوران پاکستانی پرچم سرنگوں رہے۔ حملے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد وزیر اعظم نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا جبکہ 21 ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں جن کے ذریعے دہشتگردوں کو پھانسیاں دی گئیں۔

آج اس سانحے کو 4 سال گزر گئے ہیں لیکن معصوم شہدا کو آج تک کوئی چاہ کر بھی نہیں بھلاپایا ۔ آج اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ شہدا کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *