8 سال بعد ملک میں بسنت کا تہوار فروری میں منایا جائے گا

News Desk

   8 سال بعد ملک میں بسنت کا تہوار منانے کا اصولی فیصلہ کر دیا گیا ۔صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ  بسنت لاہور کا ثقافتی فیسٹیول ہے جس سے اربوں روپے کا بزنس ہوتا تھا۔ لاہور کے ثقافتی حلقوں کی جانب سے بسنت کا تہوار منانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔بسنت تہوار میں کیمیل ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔

فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ اس حوالے سے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو بسنت کے منفی پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور اس پر اپنی تجاویز دے گی، تاہم فروری کے دوسرے ہفتے بسنت منانے کا اصولی فیصلہ ہو گیا ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ  وزیر اعلیٰ پنجاب نے بسنت کے حوالے سے تجاویز مانگی ہیں، انہوں نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سال فروری میں بسنت تہوار منانے کے لیے تیاریاں کی جائیں، بسنت ایک ثقافتی تہوار ہے جس میں معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی سرگرمیاں ہوتی ہیں اور بسنت کا کسی مذہب یا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس بار سردار عثمان بزدار کی قیادت میں لاہور کا یہ تاریخی ثقافتی میلہ منعقد کیا جائے گا اور فروری کے دوسرے ہفتے کو ہم بسنت فسٹیول منائیں گے۔کیمیکل ڈور کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بسنت تہوار میں کیمیل ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہو گی، اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ایک ہفتے کے اندر اپنی تجاویز تیار کرکے رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی اس کے بعد وزیر اعلیٰ حتمی فیصلہ کریں گے کہ بسنت میلہ کس انداز سے منعقد کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *