بد عنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا اولین ترجیح ہے ، چئیر مین نیب

News Desk

چئیر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ  نیب بدعنوانی کے خاتمہ کو نہ صرف اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن فری پاکستان کیلئے کوشاں ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پرمنطقی انجام تک پہنچایاجائے اورکم مالیت کے مقدمات کو متعلقہ انٹی کرپشن کے اداروں کو بھجوائے جائیں تا کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شوائد کی بنیا د پر دس ماہ کے مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے انسداد بدعنوانی کی مؤثر حکمت عملی کے تحت اشتہاریوں، مفروروں اور بدعنوان عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانا اولین ترجیح ہے اور اس کیلئے تمام وسائل بروے کار لائے جا رہے ہیں۔ کرپشن کے 15 بڑے مقدمات انکوائری اور 19 انویسٹی گیشن کے مراحل میں ہیں، 40 مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا ہے۔ نیب نے گزشتہ ایک سال کے دوران 1713 شکایات کی جانچ پڑتال، 877 انکوائریز اور 227 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی۔

وفاقی داررالحکومت اسلام آباد میں سٹیٹ آف دی آرٹ فرانزک لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے جس کے ذریعے موبائل ڈیٹا اور فنگر پرنٹس کی شناخت سے مقدمات میں ٹھوس شواہد حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین نیب نے دوبارہ اس عزم کا اظہار کیا کہ کرپشن مقدمات کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔نیب ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک اجلاس میں انہوں نے مزید کہا کہ ہم کرپشن فری پاکستان کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے انسداد بدعنوانی کی مؤثر حکمت عملی کے تحت اشتہاریوں، مفروروں اور بدعنوان عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانا اولین ترجیح ہے اور اس کیلئے تمام وسائل بروے کار لائے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *