پیرا گون سکینڈل میں خواجہ برادران کے ریمانڈ میں 15 دن کی توسیع

News Desk

لاہور کی احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے پیراگون سٹی سکینڈل میں سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سود رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے جسمانی ریمانڈ میں 15 دن کی توسیع کر دی ۔ نیب کی جانب سے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو احتساب عدالت کے  جج سید نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ملزمان کی جانب سے وکیل امجد پرویز اور استغاثہ کے وکیل وارث علی جنجوعہ دلائل  دیے۔

یب پراسکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ سعدین ایسوسی ایٹس اور ایگزیکٹیو بلڈرز  سے خواجہ برادران کو پیسے آ رہے ہیں اور ملزمان کا کہنا ہے کہ کنسلٹنسی کے پیسے آ رہے ہیں تاہم ہم نے سعدین ایسوسی ایٹس اور ایگزیکٹیو بلڈرز کے ملازمین کی تفصیل مانگی ہے۔یب وکیل کا کہنا تھا کہ شاہد بٹ کے بیان کے مطابق اس کی کمرشل اراضی عام پلاٹ بنا کر بیچ دی گئی، مقامی بلڈرز اور خواجہ کے دوست کرنل اعظم کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، اس کے بیان سے شاہد بٹ کے بیان کی تصدیق ہوئی ہے۔وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ برداران کے بتائے ہوئے حقائق کومسخ کرکے پیش کیا جا رہا ہے، احتساب عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب ٹرانزیکشن کی بات کررہا ہے۔

خواجہ برادران کے وکیل نے کہا کہ جوگھرسعدین اورکے ایس آر سے مارکیٹ ہوئے کوئی متاثرہ شخص نہیں، بنیادی حقوق میں سے خواجہ برادران کا بھی حق ہے کہ بزنس کریں۔یب کی جانب سے خواجہ برادران کے جسمانی ریمانڈ میں 15 کی توسیع کی درخواست کی گئی جسے وکیل صفائی کی مخالفت کے باوجود منظور کر لیا گیا۔یب نے 11 دسمبر کو خواجہ برادران کو گرفتار کیا تھا اور 12 دسمبر کو عدالت نے ملزمان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔نیب نے الزام لگایا ہے کہ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سے فوائد حاصل کرتے رہے ہیں اور ان کے نام 40 کنال اراضی موجود ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹی کی تشہیر کی اور عوام سے اربوں روپے بٹورے۔ترجمان نیب نے کہا ہے کہ خواجہ برادران کو پیراگون سٹی کرپشن کیس میں مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔خواجہ برادران کی گرفتاری درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ ترجمان نیب کے مطابق ملزمان کیخلاف معقول شواہد پیش کرنیکی تصدیق بھی ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *