العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو 7 سال قید ، ڈھائی کروڑ ڈالر جرمانہ کی سزا ۔فلیگ شپ ریفرنس سے بری

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے نواز شریف کو ڈھائی کروڑ ڈالر(3 ارب 47 کروڑ 87 لاکھ روپے )جرمانہ عائد کیا۔قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے دائر العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے19 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔سابق وزیراعظم پر العزیزیہ ریفرنس میں قید کے علاوہ  تقریباََ ایک ارب 50 کروڑ روپے کا جرمانہ اور جائیداد کو بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالتوں نے پاناما کیس سے اب تک تمام اہم فیصلے جمعہ کے روز سنائے تاہم العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ پیر کو آیا۔ نواز شریف کیخلاف جمعہ کے روز پہلا فیصلہ 20 اپریل 2017ء کو سنایا گیا، جب سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں اکثریت رائے سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دیتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا۔ عدالت نے نواز شریف کو 10 سال تک عوامی عہدے کیلئے بھی نااہل قرار دیا جبکہ العزیزیہ اور ہل میٹل جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔دونوں ریفرنسز میں نواز شریف کے بیٹے حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ  گرفتاری جاری کیے ہیں۔فیصلے کے بعد نواز شریف کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ انہیں اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد سنایا اور سابق  وزیراعظم  کی درخواست منظور کر لی۔

نواز شریف کے عدالت پہنچتے ہی مسلم لیگ ن کے کارکنان نے عدالت کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس اور مسلم لیگ کے کارکنان میں تصادم ہو گیا جس کے بعد پولیس نے کارکنان کو روکنے کے لیے شیلنگ شروع کر دی۔ سابق وزیراعظم کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے کارکنان نے کشمیر ہائی وے کے دونوں اطراف کی سڑکوں کو بند کر دیا تھا۔واز شریف نے لیگی رہنماؤں سے مشاورت کے دوران کہا کہ مجھے اللہ سے انصاف کی پوری امید ہے، موجودہ حکومت نے عوامی ترقی کے سفر کو سبوتاژ کیا اور ‏ایک بار پھر پاکستان کی ترقی کو پٹری سے اتار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‏کیس میں کچھ نہیں ہے اس لیے زیادہ زیادتی کر بھی نہیں سکتے۔ میں نے ‏ایمانداری سے ملک اور عوام کی خدمت کی ہے جبکہ ‏کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی نہیں کیا، اس لیے ‏میرا ضمیر مطمئن ہے۔احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد مجرم نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے گا 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *