فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام جلد بازی میں کیا گیا

News Desk

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں فاٹا انضمام جلد بازی میں کیا گیا جس سے قبائل اور حکومت دونوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فاٹا انضمام کے معاملے پر عجلت سے کام لیا گیا پہلے جامع اصلاحات اور بعد میں انضمام ہونا چاہیے تھا۔

پیر نور الحق قادری نے کہا کہ انضمام کے وقت این ایف سی ایوارڈ میں 3 فیصد حصہ زبانی جمع خرچ تھا اور اب  موجودہ حکومت این ایف سی ایوارڈ میں 3 فیصد حصہ کے لیے عملی منصوبہ بندی کر رہی ہے جب کہ موجودہ حالات میں قبائلی اضلاع میں کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انضمام کے ثمرات سے استفادہ کے لیے قبائل کو متحد ہونا پڑے گا۔ قبائل مذاکرات کے قائل ہیں اور جملہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔موجودہ حالات میں قبائلی اضلاع میں کوئی قانون لاگو نہیں ہے۔ 
پیر نورالحق قادری کا کہنا  ہے کہ انضمام کے ثمرات سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے قبائل کو متحد ہونا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے بیرونی سازشوں کا خاتمہ یقینی بنائے۔

خیال رہے کہ 24 مئی کو قومی اسمبلی میں فاٹا کے خیبر پختونخوا سے انضمام کا 31 ویں آئینی ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا اور اگلے ہی روز سینیٹ نے بھی اس کی منظوری دے دی تھی۔
27 مئی کو یہ بل توثیق کے لیے خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور اسے دوتہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کی حمایتی رہی ہے اور قومی اسمبلی و خیبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا انضمام کے حق میں ووٹ بھی دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *