کیا پاکستان کو طالبان کے ساتھ مزاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے ؟ پاکستان افغان حکومت۔ طالبان کو ایک میز پر لانے میں کامیاب‎

News Desk

پاکستان.افغان حکومت اور طالبان کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوگیا. وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے طالبان کی مشروط آمادگی سے افغان حکومت کو آگاہ کر دیا۔ افغان طالبان نے ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومتی نمائندگان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

 افغان طالبان نے ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومتی نمائندگان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق طالبان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں نگران حکومت قائم کی جائے اور اس کی تشکیل کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔ طالبان رہنماوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی میں انہیں بھی نمائندگی دی جائے جبکہ کچھ اہم طالبان رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کے ردعمل کے بعد مزید پیش رفت کا امکان ہے۔

شاہ محمود قریشی نے ایران اور چین کے وزراء خارجہ کو بھی آگاہ کر دیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی روسی ہم منصب کو بھی اعتماد میں لیں گے۔

واضح رہے کچھ روز قبل افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایک بارہ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی کانفرنس کے موقع پر غنی نے کہ تھا کہ اس ٹیم میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

افغان صدر کے مطابق اس ٹیم کی قیادت افغان فوج کے سربراہ جنرل عبدالسلام رحیمی کو تفویض کی گئی ۔ دوسری جانب اس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ نے بھی صدر اشرف غنی سے کہا تھا کہ وہ باغیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے سلسلے کو ترجیحی بنیاد پر شروع کریں۔ اقوام متحدہ کی دو روزہ بین الاقوامی افغانستان کانفرنس سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ستائیس نومبر کو شروع ہوئی تھی۔ 
واضح رہے پاکستان نے امریکہ کی مذاکرات کیلئےطالبان سے بات کروائی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ امریکہ پہلے ہمیں ڈومور کہتا تھا اب ہمیں کہتا ہے کہ افغان طالبان سے بات کروا دو۔ جس پرپاکستان نے امریکا کی افغان طالبان سے بات کروائی ۔پاکستان نے امریکہ طالبان مذاکرات میں افغانستان میں امن و مصالحت کیلئے مشترکہ ذمہ داری کے تحت کردار ادا کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *