زلفی بخاری کو وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد ‎

News Desk

سپریم کورٹ نے زلفی بخاری کی دہری شہریت کے حوالے سے کیس کا فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق انہیں وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔زلفی بخاری کی جانب سے ان کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دئیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ زلفی بخاری وزیر کی حیثیت سے کام نہیں کر سکتے۔

زلفی بخاری کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل وزیرکے اختیارات استعمال نہیں کررہے جس پر چیف جسٹس نے درخواست گزار کی جانب سے زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی اختیارات استعمال کیے تو پھر معاملے کو دیکھ لیں گے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اعتزازصاحب سے پوچھ لیں گے زلفی بخاری وزیرہیں یانہیں؟
زلفی بخاری کون ہے کہاں سے آیا؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پارلیمنٹ کواس معاملے پرتجاویز دے سکتے ہیں زلفی بخاری کوکہاں سے وزیربنایاگیا۔پوری سمری لائیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری نے ویب سائٹ پرکیسے وزیرمملکت کاعہدہ لکھ دیا؟
اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری کی وجہ سے برٹش ایئرویزپاکستان آئی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اچھا تو یہ ہوتا آپ پی آئی اے کوبہتر بناتے۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کی اہلیت بتائیں۔نئے پاکستان میں جیدلوگ ہونے چاہئیں۔چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ صوابدیدی اختیارکامطلب یہ نہیں وزیراعظم جس طرح مرضی کام کرے۔

وقفے کے بعد دوبارہ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیئے۔عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کردی۔عدالت نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دیدی لیکن وزیر مملکت کی حیثیت سے کام کرنے سے روک دیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر زلفی بخاری نے وزیر مملکت کی حیثیت سے اختیارات استعمال کئے یا پروٹوکول لیا تو ان کےخلاف کارروائی ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *