خیبر پختونخوا میں بھی کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے‎

News Desk

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب خیبر پختونخوا آفس کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب نے انہیں میگا کرپشن کیسز کے بارے میں بریفنگ دی۔

اس موقع پر چیئرمین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے، نیب میں میگا کرپشن کے مقدمات الماریوں اور فائلوں سے نکالیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ خیبرپختونخوامیں بھی کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے. نیب کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ دھمکیوں سے نیب کو خاموش نہیں کرایا جاسکتا قانون کے دائرے میں ہر قدم اُٹھا رہے ہیں۔

دوسری تقریب میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ رواں سال بدعنوانی کے 440 ریفرنس دائر کیے بدعنوانی کے خلاف نیب کی زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کو 2017ء کی نسبت اس سال دگنا شکایات موصول ہوئی ہیں۔ عوام کا نیب کی طرف زیادہ رجحان اس قومی ادارے پر اعتماد کا ضامن ہے۔ نئی نسل کی اصلاح پر بھرپور توجہ مرکوز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب افسران مکمل دلجوئی کیساتھ تمام تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں۔ دیگر اداروں کی نسبت 42 فیصد عوام کا اعتماد نیب کو حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 126 سے 116 ویں نمبر پر آ چکا ہے اور سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ مشال پاکستان اور ورلڈ اکنامک فورم کے شمارات پاکستان کو 102 سے 99ویں نمبر پر ظاہر کر رہے ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ قومی ادارے میں پروفیشنل کوہتائیںوں پر قابو پایا گیا ہے۔ نیب کے آپریشنل پرازیکیوشن اور اویئرنیس ونگز میں قابل قدر بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ انفورسمنٹ کے ساتھ ساتھ اویئرنیس ونگ پر بھی بھرپور توجہ ہے۔ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے اقدامات سے ملک میں بہتری واضح ہے جو جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *