پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ڈاکٹر نہیں عطائی تیار ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

News Desk

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاہور میں میڈیکل کالج میں  ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ہر مقصد نیک نیتی سے بھرپور رہا، لوگوں کے مسائل کی وجہ سے میں جدوجہد کر رہا ہوں، پیشہ ورانہ زندگی میں خلوص نیت سے ذمے داری نبھانا اصل خدمت ہے، میں نے ایمانداری کو ہمیشہ نصب العین بنایا۔

انہوں نے کہا اپنی پوری زندگی میں انصاف کے حصول کیلئے کام کیا، بلوچستان گیا تو پتہ چلا سب سے بڑے ہسپتال میں آئی سی یو نہیں تھا، 2 ہزار پیرا میڈیکس کچھ روز سے ہڑتال پر تھے، مجھے مشورہ دیا گیا بلوچستان نہ جائیں پیرا میڈیکس ہڑتال پر ہیں، میں بلوچستان گیا اور پیرا میڈیکس کا ایک ایک جائز مطالبہ پورا کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ڈاکٹرز نہیں عطائی بنائے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ملک میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن میں ہم دنیا سے پیچھے ہیں ان میں سے ایک تعلیم بھی ہے۔دنیا میں اس قوم نے ترقی کی جس نے علم حاصل کیا اسی لیے میں ہمیشہ زور دیتا ہوں کہ ہمیں تمام وسائل تعلیم پر لگانے چاہیں۔ پاکستان کا پیدا ہوانے والا ہر بچہ ایک لاکھ اکیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔اکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نشہ کرتی ہے والدین کو چاہیے کہ اپنے اولاد کا دھیان رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ری ہبیلیشن سینٹر قائم ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں اساتذہ کا احترام بھی ضروری ہے ہم اساتذہ کا احترام کم نہیں ہونے دیں گے اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ اپنے کردار سے اپنا مقام بنائیں۔ نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال تربیت گاہ نہیں، بزنس ہاؤس بن گئے، عدلیہ نے کسی ہسپتال کی مینجمنٹ میں مداخلت نہیں کی، جہاں غلطیاں تھیں انہیں ٹھیک کرنے کے اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا اربوں روپے نجی ہسپتالوں سے لے کر والدین کو واپس دلوائے، ملک کا ہر فرد ایک لاکھ 25 ہزار کا مقروض ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *