عدالت کا بحریہ ٹاؤن کے منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم‎

News Desk

سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس میں بحریہ ٹاؤن کی متفرق درخواست منظور کر لی عدالت نے بحریہ ٹاؤن، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے بحریہ ٹاون کے منجمد تمام اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کا نام تبدیل کر دیا جائے۔ بحریہ کا نام بہت استعمال کر لیا۔ سپریم کورٹ نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اکاؤنٹس بھی بحال کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم صرف مخصوص اکاؤنٹس تک تھا اور وہ بھی صرف اکاؤنٹس کی نگرانی کی حد تک تھا۔

سماعت کے دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزازاحسن نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے حکم پر نجی بینکوں نے ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس منجمند کر دئیے جس کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر ترقیاتی کام رک گئے۔ساتھ ہی ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے بتایا کہ ان کے ادارے کے اکاؤنٹس بھی منجمند کر دیئے گئے ہیں اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے صرف 2 اکاؤنٹس کی نگرانی کا کہا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے وکیل اعتزاز احسن سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باجود بحریہ ٹاؤن نے اب تک اپنا نام تبدیلی کیوں نہیں کیا۔جس پر انہیں بتایا گیا کہ 6 ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ 6 ماہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ نام کی تبدیلی کے حوالے سے کام جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *