نواز شریف کی سزا معطل کرنے کی درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ

News Desk

العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی سزا معطلی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پرعدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔نوازشریف کو احتساب عدالت سے سنائی گئی سزا کیخلاف درخواست کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ ابھی تک سزا کے خلاف اپیل مقرر نہیں ہوئی، کیا آپ نے اپیل فائل کر دی ہے ؟ خواجہ حارث نے بتایا اپیل دائر ہو چکی ہے جس پر آفس نے 1/2019 کا نمبر بھی لگا دیا ہے، آپ جو تاریخ مناسب سمجھیں مقرر کر دیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے آبزرویشن دی جب آفس سزا کے خلاف اپیل مقرر کرے گا تو یہ درخواست بھی ساتھ ہی فکس ہو جائے گی، جب اپیل ہمارے سامنے آئے گی تو اس کے بعد سزا معطلی کی درخواست پر نوٹس جاری کریں گے، سزا معطلی کی درخواست اس وقت قابل سماعت ہے یا نہیں، اس حوالے سے بعد میں آرڈر بھی جاری کر دیا جائے گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے بعد میں آرڈر بھی جاری کر دیا جائے گا۔سماعت کے موقع پر سینیٹر مصدق ملک، مریم اورنگزیب، راجہ ظفر الحق اورسابق گونر سندھ  محمد زبیر بھی عدالت پہنچے تھے۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے درخواست میں موقف اپنا رکھا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ مرکزی اپیل پر فیصلہ نہیں سنا دیتی سزا معطل کی جائے اور نوازشریف کو رہا کیا جائے۔دوسر طرف نیب نے بھی احتساب عدالت کے فلیگ شپ ریفرنس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے اورالعزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی سزا بڑھانے کی استدعا کررکھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *