کیپ ٹاون میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دے کر ٹیسٹ سیریز جیت لی

News Desk

جنوبی افریقہ کی ٹیم نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے دو ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کر کے سیریز اپنے نام کرلی۔ جنوبی افریقا کی ٹیم نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں 9 وکٹوں سے باآسانی شکست دے کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔

ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈین ایلگر اور ڈی برائن نے 41 رنز کے تعاقب میں اپنی اننگز کا آغاز کیا تو ڈی برائن چار رنز بنا کر محمد عباس کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے جب کہ اُن کے بعد آنے والے کھلاڑی ہاشم آملہ دو رنز پر محمد عامر کی گیند پر زخمی ہونے کی وجہ سے میدان سے باہر چلے گئے تھے۔

فاف ڈو پلیسس نے ڈین ایلگر کے ساتھ مل کر 41 رنز کے تعاقب میں 43 رنز کا ہدف پورا کیا۔پہلی اننگز میں پاکستانی ٹیم خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی تھی اور پورٹی ٹیم 177 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی جس کے جواب میں میزبان ٹیم نے اننگز کے پہلے روز دو کھلاڑیوں کے نقصان پر 123 رنز بنائے اور دوسرے روز اپنی اننگز کے اختتام تک 431 رنز بناکر 254 رنز کی برتری حاصل کر لی تھی۔

جنوبی افریقا کی طرف سے پہلی اننگز میں فاف ڈوپلیسی نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 103 رنز بناکر نمایاں رہے جب کہ بووما اور ڈی کوک نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے تیسرے روز جنوبی افریقا کی 254 رنز کی برتری کے جواب میں پاکستان کرکٹ ٹیم میدان میں اتری اور 294 رنز بناکر ڈھیر ہو گئی اور جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 41 رنز کا ہدف دیا۔

اننگز کا آغاز امام الحق اور شان مسعود نے کیا تھا لیکن امام الحق ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئے اور چھ رنز بناکر ڈیل اسٹین کی گیند پر آؤٹ ہوئے اور اُن کے بعد اظہر علی بھی 13 گیندوں پر چھ رنز کے بنا کر واپس لوٹ گئے۔تیسری وکٹ کے لیے شان مسعود اور اسد شفیق کے درمیان 132 رنز کی شراکت نے جنوبی افریقا کی برتری کو ختم کرنے میں پاکستان کی کچھ مدد کی تھی۔

شان مسعود 159 کے مجموعی اسکور پر 61 رنز بنا کر ڈیل اسٹین کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے آؤٹ ہوئے جس کے بعد اسد شفیق بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ رک سکے اور 88 رنز بنا کر فلینڈر کا شکار بن گئے۔کپتان سرفراز احمد کا پہلی اننگز میں بیٹنگ کی ناکامی کو شکست کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وکٹ فاسٹ بولرز کو سپورٹ کررہی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلی اننگز میں جنوبی افریقہ کو250سے300رنز پرروک لیتے تو فائدہ ہوتا، ہمیں غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ دونوں ٹیموں میں اصل فرق جنوبی افریقا کی فاسٹ بولنگ نے ڈالا ہے اور جنوبی افریقا کی جیت کا کریڈٹ ان کے بولروں کو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *