معاف کئے گئے قرضوں میں سے واپس کی گئی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرائی جائے۔‎

News Desk

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 54 ارب روپے کے معاف کئے گئے قرضوں میں سے واپس کی گئی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرائی جائے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے 54 ارب روپے قرضوں کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
54 ارب روپے قرضوں کی معافی کے کیس میں عدالت نے حکم جاری کیا جن لوگوں نے قرضے واپس کئے ہیں وہ ڈیم فنڈ میں جمع کرا دیئے جائیں. باقی لوگ 2 مہینے کے اندر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس میں پیسے جمع کرا سکتے ہیں قرضے واپس نہ کرنے والوں کے معاملات طے کرنے کے لئے خصوصی بینچ بنے گا تمام رقم ڈیم فنڈ میں جائے گی۔

سپریم کورٹ میں 54ارب روپے قرضوں کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 12 اگست 2018 کے حکم کی کچھ نے تعمیل کی ہے کچھ نے نہیں کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 222 میں سے 39 نے رضا کارانہ رقم واپسی کا آپشن لیا جن لوگوں نے رضا کارانہ واپسی کا آپشن لیا وہ خوش قسمت تھے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ خصوصی بینچ بنا دیتے ہیں جو واجب الادا رقم کا تعین کرے جنہوں نے پیسے دے دیے ان کی حد تک مقدمہ ختم کردیتے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے ان کو مارک اپ اور دیگر فنڈ معاف کر دیے ان سے کہا گیا جتنے پیسے بینک سے لیے صرف وہ واپس کریں بلکہ اس رقم کا بھی صرف 75 فیصد دیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ باقی لوگ بھی ایک آپشن لینا چاہتے ہیں عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ باقی لوگ 2 ماہ میں سپریم کورٹ رجسٹرار آفس میں پیسے جمع کراسکتے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے 54 ارب روپے قرضوں کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *