طالبان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا

News Desk

افغان طالبان کی قیادت نے ایجنڈے پر اتفاق نہ ہونے پر امریکی حکام سے مذاکرات کا نیا دور منسوخ کردیا۔تفصیلات کے مطابق قطر میں  امریکی حکام اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہونا تھا تاہم افغان طالبان کی قیادت نے ایجنڈے پر اتفاق نہ ہونے پر مذاکرات سے انکار کردیا۔افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان گزشتہ ماہ بھی متحدہ عرب امارات میں تین دن تک بات چیت جاری رہی تھی جس میں میزبان ملک کے علاوہ افغان حکومت، سعودی عرب اور پاکستان کے نمائندے شامل تھے۔طالبان قیادت ابتدا سے یہی کہتی آئی ہے کہ اس کی اصل لڑائی امریکہ کے ساتھ ہے کیونکہ وہ ہماری سرزمین پر قابض ہے۔ طالبان قیادت کے بقول اصل مسئلہ حل ہی اس وقت ہو گا جب امریکی افواج ہماری سرزمین خالی کرکے واپس جائیں گی اور چونکہ یہ کام صرف امریکی حکام ہی کرسکتے ہیں اس لیے وہ بات چیت بھی انھی کے ساتھ کریں گے۔17

سال گزر جانے کے بعد بھی افغانستان میں 14 ہزار سے زائد فوجی قیام پذیر ہیں اور پورا ملک حالت جنگ ہی میں گردانا جاتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان اور امریکی حکام کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آج سے قطر میں شروع ہونا تھا۔افغان طالبان کا کہنا ہے مذاکرات فریقین کے اتفاق کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں، چند پہلوؤں پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات ہیں۔طالبان نے افغان حکام کی مذاکرات میں شمولیت کی عالمی طاقتوں کی درخواست کو بھی مسترد کیا، افغان طالبان اور زلمے خلیل زاد کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ افغانستان کے مسئلے کا جلد تصفیہ کرکے وہاں تعینات امریکی افواج کو وطن واپس بلانا چاہتے ہیں۔ وہ شام سے بھی امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کرچکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اندرون ملک بھی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *