چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مبینہ ذہنی مریض کی پھانسی معطل کردی‎

News Desk

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سزائے موت کے منتظر ذہنی مریض خضر حیات سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے آج خبر پڑھی ہے کہ کسی خضر حیات نامی شخص کو پھانسی دے رہے ہیں خضر حیات جیل میں قید ہے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ خضر حیات کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے جس پر چیف جسٹس نے انہیں ہدایت کی کہ فوری طور پر معلوم کروائیں کہ وہ شخص ذہنی مریض ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ نے خضر حیات کے اہل خانہ کی جانب سے کی جانے والی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اس پر سماعت بروز سوموار کے لیے مقرر کردی اور خضر حیات کی پھانسی تاحکم ثانی معطل کردی۔

یاد رہے کہ خضر حیات کے اہل خانہ کی جانب سے کی جانے والی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو پھانسی دی جا رہی ہے عدالت اس کا نوٹس لے۔
لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ذہنی مرض ( شیزوفرینیا )میں مبتلا سزائے موت کے قیدی خضر حیات کو تختہ دار پر لٹکانے کی تاریخ 15 جنوری مقرر کردی تھی۔
ڈسٹرکٹ سیشن جج خالد نواز کے دفتر سے جاری ہونے والے ڈیتھ وارنٹ کے مطابق سابق پولیس کانسٹیبل خضر حیات کو سینٹرل جیل لاہور میں سزائے موت دی جائے گی۔
خضر حیات کو ساتھی پولیس اہلکار کو قتل کرنے پر اکتوبر 2001 میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2 سال بعد 2003 میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔
دسمبر 2018 میں لاہور ہائی کورٹ نے خضر کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے لیے ان کی والدہ کی جانب سے دائر درخواست خارج کردی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خضر حیات کے بلیک وارنٹ دو بار جاری ہوچکے ہیں اور دونوں بار لاہور ہائی کورٹ نے ان کی پھانسی پر عملدرآمد روک دیا تھا۔جون 2015 میں خضر حیات کے بلیک وارنٹ جاری کیے گئے جسے ہائی کورٹ نے آخری لمحات میں منسوخ کردیا تھا۔اس کے بعد جنوری 2017 میں لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے خضر کے ایک بار پھر ڈیتھ وارنٹ جاری کیے لیکن اس بار بھی ہائی کورٹ نے سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *