چیف جسٹس نے بلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم نہیں دیا۔‎

News Desk

پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 7 جنوری کو چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بلاول بھٹو  کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ دو مرتبہ کابینہ کا اجلاس ہوا مگر بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا۔

شازیہ مری کے اعتراض پر جواب دیتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چیف جسٹس نے ای سی ایل سے نام ہٹانے کا حکم نہیں دیا۔فیصلے میں کہا گیا اس معاملے کو دیکھیں۔ کابینہ اجلاس میں یہ نقطہ اٹھایا گیا کہ عدالت کا تفصیلی حکم نہیں ملا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے سے انکار کسی نے نہیں کیا تاہم اس سے متعلق بنائی گئی حکومتی کمیٹی معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

وزیرخارجہ کے جواب پر پی پی رہنما نوید قمر نے کہا کہ جب ای سی ایل میں نام ڈالا گیا تو عدالت کے تحریری فیصلے کا انتظار نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے بندے کا نام 24 گھنٹے میں ای سی ایل سے نکالا جاتا ہے۔ای سی ایل کو یہ حکومت سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت کئی پی پی رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے 31 دسمبر کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا جب کہ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام بھی ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا تاہم حکومت نے یہ معاملہ جائزہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےجعلی اکاؤنٹس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اگر بلاول بھٹو زرداری کا تعلق اس مقدمے سے نہیں بنتا تو ان کا نام ای سی ایل میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟جبکہ چیف جسٹس نے نیب کو تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *