ساہیوال آپریشن 100فیصد ٹھیک انفارمیشن بیسڈ تھا

                             نیوز ڈیسک

وزیرقانون پنجاب راجا بشارت نے کہا ہے کہ ساہیوال آپریشن 100 فیصد ٹھیک انفارمیشن بیسڈ تھاپنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجہ بشارت نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین کر دیا گیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ مقدمے کا چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جلد پیش کیا جائے.

بے گناہوں کے قتل میں ملوث 5 افسران کو انسداددہشتگردی عدالت میں پیش کیا جائے گاجبکہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف بھی دہشتگردی دفعات کے تحت سخت کاروائی کی جائے گی۔

جے آئی ٹی نے 72 گھنٹوں میں اپنی تحقیقات مکمل کیں۔پہلے کبھی بھی صوبے کی تاریخ میں 72 گھنٹے کاروائی نہیں کی گئی۔ہم پرعزم ہیں کہ آئندہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ذیشان اور اس کے زیراستعمال گاڑی سے متعلق میڈیا کومکمل بریفنگ دی جائے گی۔

اسی طرح ذیشان سے متعلق مزید حقائق کو سامنے لانے کیلئے جے آئی ٹی سربراہ نے مہلت مانگی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے معلومات اکٹھی کی جائیں اور گاڑی کا پتا کیا جائے کہ وہ دہشتگردوں کے استعمال میں تھی یا نہیں؟ وزیرقانون پنجاب نے بتایا کہ واقعے میں ملوث ایس ایس پی۔ ڈی ایس پی اور ملوث افسران کیخلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔


اسی طرح ڈی آئی جی ساہیوال کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اورایس ایس پی سی ٹی ڈی کو معطل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن 100فیصد ٹھیک تھا۔تاہم بے گناہوں کو قتل کرنے کے جرم میں ملوث افسران اور اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی جائے گی۔


انہوں نے مزید کہا کہ میں اُس بیان پر قائم ہوں کہ آپریشن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا چند دن انتظار کریں سارے معاملات سب کے سامنے آجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *