سابق وزیراعظم نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے ‎

نیوز ڈیسک

سابق وزیراعظم نواز شریف کے میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو بلڈ پریشر. شوگر.گردوں اور خون کی شریانوں کا مسئلہ ہے اور ان کا علاج پاکستان میں ممکن ہے جس پر میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کےدل کاعلاج کرانےکی سفارش کردی.
سابق وزیراعظم اسپتال رہیں گے یاجیل اس کا فیصلہ محکمہ داخلہ کرے گا.

نوازشریف کو اسپتال میں زیرعلاج رکھنا ہے یا دوبارہ جیل منتقل کردیا جائے میڈیکل بورڈ نے تجاویز بھجوادیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نواز شریف کے علاج کے لیے تین ٹرمز آف ریفرنس تھے اور وہ تفصیلی طبی معائنے۔ طبی ٹیسٹ اور دوائیوں میں رد و بدل کے تحت داخل ہوئے۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی دوائیوں میں معمولی ردوبدل کیا گیا ہے۔طریقہ کار کے تحت کسی بھی مریض کے ٹیسٹ کی رپورٹ نہیں بتا سکتے تاہم محکمہ داخلہ کو تمام سفارشات بھجوائی جائیں گی۔

نوازشریف کو جیل سے اسپتال منتقل ہوئے چار دن ہوگئے اس دوران ان کے خون کے مختلف ٹیسٹ سی ٹی اسکین اور الٹراساونڈ کیا گیا۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جنہیں ہفتے کے روز ڈاکٹروں کی سفارش پر جیل سے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *