حج پالیسی 2019 جاری، اخراجات 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد

نیوز ڈیسک

ہر اہل ایمان اپنے سینے میں حج بیت اللہ اور در مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھتا ہے ، مگر پاکستان میں روز بروز بڑھتی مہنگائی نے غریب پاکستانیوں کے لیے اس عظیم سعادت کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء کی باضابطہ منظوری دے دی، جس میں حجاج کرام کو کسی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہےپی ٹی آئی کی حکومت میں ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان اور معاشی بدحالی ، ڈ الر ریال کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے حج اخراجات میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے.فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جانے کے خواہش مندوں سے حج درخواستیں 25 فروری سے چھ مارچ تک وصول کی جائیں گی۔

وفاقی حکومت کی اعلان کردہ حج پالیسی کے تحت جمع ہونے والی درخواستوں کی قرعہ اندازی آٹھ مارچ 2019 کو ہوگی۔اعلان کردہ پہلی حج پالیسی کے تحت شمالی ریجن کے لیے حج اخراجات قربانی کے بغیر چار لاکھ 36 ہزار 975 روپے ہوں گے۔

حجاج کو قربانی کے اخراجات کی مد میں 19 ہزار 451 روپے علیحدہ سے ادا کرنے ہوں گے۔ ملک کے جنوبی ریجن سے تعلق رکھنے والے فرزندان توحید کو حج اخراجات کی مد میں قربانی کے بغیر چار لاکھ 26 ہزار 975 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

وفاقی وزارت مذہبی امور کے اعلان کے مطابق سرکاری اسکیم کے تحت ایک لاکھ سات ہزار اور نجی اسکیم  کے تحت 71 ہزار 610 افراد فریضہ حج ادا کریں گے۔ نئی حج پالیسی کے تحت 80 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے دس ہزار حج کوٹہ مختص ہے۔ ایک اور کوٹہ بھی ان افراد کے لیے مختص کیا گیا ہے جو گزشتہ تین سال سے ہونے والی قرعہ اندازی میں ناکام رہے ہیں۔ یہ کوٹہ بھی دس ہزار افراد کا ہے۔

اعلان کردہ حج پالیسی کے تحت رواں سال ایک لاکھ 79 ہزار 219 پاکستانی فریضہ حج ادا کرنے کے لیے سعودی عرب کا سفر کریں گے۔قربانی کے اخراجات 19 ہزار چار سو اکیاون روپے ہیں جو اختیاری ہوں گے اور رواں سال مفت حج نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *