حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں چئیرمین پی اے سی بنانے کا فیصلہ‎

نیوز ڈیسک

حمزہ شہباز شریف کو پنجاب حکومت نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور سپیکر پرویز الہیٰ کی سعودی عرب سے واپسی پر اجلاس میں چئیرمین پی اے سی کا نام اناونس کیا جائے گا۔

پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ کی سعودی عرب واپسی پر اہم اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں چئیرمین پی اے سی سمیت قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی طے شدہ فارمولے کے تحت چیئرمین کا چناؤ ہو گا۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں کا چناؤ بھی اسی اجلاس میں کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تناؤ کا پنجاب میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

راجہ بشارت نے کہا کہ حمزہ شہباز کو پی اے سی کی چیئرمین شپ نہ دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت طے شدہ فارمولے پر عمل درآمد کرے گی پی اے سی کا نوٹیفکیشن روکنے کی باتیں درست نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی اے سی کے چیئرمین کا چناؤ الیکشن کے ذریعے ہو گا حکومت معاہدے کے تحت حمزہ شہباز کی مخالفت نہیں کرے گی۔

دوسری جانب وفاق میں حکومت نے شہباز شریف کو پی اے سی کی چئیرمین شپ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وفاقی حکومت نے ووٹنگ کے ذریعے سے شہباز شریف کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔حکومت کی جانب سے پی اے سی کا نیا چئیرمین فخر امام کو بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کےچیئرمین شہبازشریف کوعہدےسے ہٹانےکے معاملے میں اخترمینگل کاووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیارکرگیا۔اخترمینگل کی حمایت کےبغیرشہبازشریف کوہٹاناممکن نہیں جس کے بعد حکومت نے اختر مینگل سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں وزیرخزانہ سمیت 30 ارکان ہیں۔وزیرخزانہ کو چیئرمین کےتقرراورہٹانےکےدوران ووٹ کااختیارنہیں۔

حکومت اوراس کےاتحادیوں کے15جبکہ اپوزیشن اتحادکےپاس 14 ووٹ ہیں۔پارٹی پوزیشن کےمطابق پی ٹی آئی11،ق لیگ ایم کیوایم،بی این پی کاایک ایک ووٹ ہے۔ایک آزاد رکن علی نوازشاہ حکومت کےحامی ہیں۔دوسری جانب ن لیگ کے7،پیپلزپارٹی5،جےیوآئی اورایم ایم اےکاایک ایک ووٹ ہے۔اس ساری صورتحال میں اخترمینگل کا ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *