مہمند ڈیم کی تعمیر میں ساڑے پانچ سال لگیں گے ، چءیر مین واپڈا مزمل حسین

نیوز ڈیسک

چیئرمین واپڈا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔ مہمند ڈیم سے آٹھ سو میگاواٹ بجلی، بارہ لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا اور ڈیم کی تعمیر سے سیلاب کو روکنے میں مدد ملے گی۔

چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے بتایا کہ حکومت کے خلاف دائر مقدمات کے باعث ڈیم کی تعمیر میں پچاس سال کی تاخیر ہوئی مگر اب حکومت کے حق میں فیصلہ آچکا ہے جس کے بعد اب مزید تعطل کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی.چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ ’ڈیم کی تعمیر کے لیے 19 لاکھ ایکٹر فٹ زمین مختص کی گئی جس کے ذریعے800 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی جاسکتی ہے جبکہ صرف مہمند ڈیم ہی سالانہ 2862 گیگا واٹ بجلی پیدا کرے گا‘۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر شمیم آفریدی کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں مہمند ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے بتایا کہ مہمند ڈیم کی تعمیر پچاس سال تاخیر کا شکار ہے جو پانچ سال میں مکمل ہو گا۔

سینیٹر یوسف بادینی نے کہا کہ ڈیسکون کمپنی بلوچستان میں بارہ ارب ڈیم کا منصوبہ نہیں لے سکی۔ مہمند ڈیم کیسے بنائے گی۔ بلوچستان میں گروک ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر بلوچستان کے سیکرٹری ایری گیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ گروک ڈیم میں جوائنٹ ونچر کے باعث ڈیسکون نے کوالیفائی نہیں کیا گروک ڈیم کا معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے۔

اگر کوئی کمپنی ایک منصوبے میں کوالیفائی نہ کرسکے تو اسے نئے ٹھیکے دینے سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔واپڈا چیئرمین نے تعمیر کے حوالے سےکہا کہ ’نومبر 2017 سے 26 جون 2018 تک مختلف کمپنیوں نے بولی کے عمل میں حصہ لیا، مجموعی طور پر 15 کمپنیاں اس عمل میں شریک ہوئیں اور دس کمپنیوں نے سائٹ کا دورہ بھی کیا، دو کمپنیاں ایسی تھیں جنہوں نے حتمی بولی کے مرحلے میں حصہ لیا اور اُن میں سے ایک کو ٹھیکہ دیا گیا‘۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پروجیکٹ کے لیے 40 فیصد انجینئرز کا انتخاب کرلیا گیا جبکہ 60 فیصد عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی‘۔واپڈا کے پاس کسی جوائنٹ وینچر کی بڈنگ روکنے کا اختیار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *