ملک سے غربت کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں‎

نیوز ڈیسک

وزیراعظم عمران خان نےاسلام آباد میں کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے مالیاتی پالیسی کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ریاست کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہو چکا ہے۔اب سوچ یہ ہے کہ غربت کیسے ختم کی جاسکتی ہے۔ زرعی زمین بچانے کیلئےشہروں کے پھیلاؤ کو روکیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں میں فلیٹ بنائے جائیں گے۔ہم 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانا چاہتے ہیں۔پاکستان میں بے شمار افراد کے پاس اپنا گھر نہیں ہے۔چھوٹے طبقے کے لیے قرضہ لینا بڑا مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے اسی حکمت عملی کے تحت آبادی کو غربت سے نکالا حکومت کی سوچ ہے کہ نچلے طبقے کو کیسے اوپر لایا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کو بھی گھروں کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے بعد فاٹاکے حالات بہت برے ہیں۔ قبائلی لوگوں کواس پیکج میں شامل کرنا بہت اچھی بات ہے۔گھروں کےمنصوبےسے 40 صنعتیں چلیں گی ہاؤسنگ اسکیم سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔کبھی کسی نے کچی آبادیوں کو سہولیات دینے کی بات نہیں کی۔ ہماری حکومت پہلی بارکچی آبادیوں کوسہولیات دے گی۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد کو ماڈل سٹی بنائیں گے۔ اسلام آباد کی کچی آبادی کےلوگوں کو مالکانہ حقوق دیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانا چاہتے ہیں۔ان 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ قانون بھی ساتھ دے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک عام لوگوں کے لیے پیسے کا انتظام نہیں کریں گے گھر نہیں بنائے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کو ہاؤسنگ قرضے دینے کے لیے مراعات دی گئیں ہیں اور کسانوں کے لیے بھی قرضوں کا انتظام کیا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک نے قبائلی علاقوں کے لیے بھی پیکج دیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں نہ اب پرانا نظام ہے اور نہ نیا نظام پوری طرح آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی بھی بڑا چیلنج ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ فلاحی ریاست کا آغاز ہے جلد لوگوں کو اپنا گھر ملے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *