مساجد میں فائرنگ 40 افراد جاں بحق

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر فائرنگ کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے. نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آنے والی بنگلادیشی کرکٹ ٹیم بال بال بچ گئی۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آڈرن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کا سیاہ ترین دن قرار دیا اور کہا کہ مساجد پر فائرنگ کا واقعہ دہشتگردی ہے. ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

مسلح شخص نماز جمعہ کے بعد مسجد میں داخل ہوا اور خود کار ہتھیار سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آور نے کئی بار گن ری لوڈ کی اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کرتا رہا۔ مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور اس دوران ہیلمٹ پر لگے کیمرے سے ویڈیو بناتا رہا اور انٹرنیٹ پر براہ راست دکھاتا رہا۔

کپتان تمیم اقبال کا کہنا ہے بنگلہ دیشی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھاگ کر جان بچائی. مسجد میں موجود ٹیم کے تمام کھلاڑی محفوظ رہے۔ مشفیق الرحمان نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت رہے حملے میں بچ گئے۔
پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر گاڑی سے اسلحہ برآمد کرلیا۔ حکام نے کرائسٹ چرچ پر سفر کی پابندی لگا دی جبکہ لوگوں کو مساجد سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہر میں گرجا گھروں اور سکول بند کر کے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم پولیس کی جانب سے جاں بحق افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ 

النور مسجد میں فائرنگ اور اس کی ویڈیو بنانے والے حملہ آور سے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ 28 سالہ آسٹریلوی شہری ہے تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
حملہ آور فائرنگ کے وقت اپنی لائیو فیس بک ویڈیو بھی بناتا رہا جو وائرل ہونے سے قبل ہی نیوزی لینڈ کی پولیس کی جانب سے ڈیلیٹ کرادی گئی ہیں۔

دوسری جانب کرائسٹ چرچ اسپتال کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ اسپتال میں کئی افراد کی لاشوں کو لایا گیا ہے تاہم انہوں نے تعداد بتانے سے گریز کیا جب کہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔

عینی شاہد کے مطابق تقریباً 200 کے قریب لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے موجود تھے.حملہ آور مسجد کے عقبی دروازے سے داخل ہوا اور کافی دیر تک فائرنگ کرتا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *