نیوزی لینڈ کی کابینہ اجلاس میں اسلحہ قوانین میں تبدیلی کے فیصلے پر اتفاق‎

نیوز ڈیسک

نیوزی لینڈ کی کابینہ نے وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے اسلحہ قوانین میں تبدیلی کے فیصلے کی حمایت کردی۔نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشت گردی کےخوفناک حملے کے بعد وزیراعظم اور کایبینہ کی جانب سے اسلحہ کنٹرول قوانین میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ میں اس رپورٹ کا جائزہ لوں گی جس میں حملے کے بعد اسلحے کی فروخت میں اضافے کا بتایا گیا ہے۔جمعہ کے روز مساجد میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے اسلحہ کنٹرول کے معاملے ملکی سیاست کو تقسیم کردیا ہے۔

جہاں متعدد افراد کے کچھ پابندیوں کے ساتھ اپنا اسلحہ رکھتے ہیں جبکہ اسلحہ قوانین میں تبدیلی پر کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے کہا مساجد پر دہشت گرد حملے کی کسٹمز، امیگریشن اور انٹیلی جنس سروس سمیت ہر سطح پر انکوائری ہوگی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس کو نفرت انگیز تقریروں کے خلاف مزید اقدامات کرنے ہونگے۔

پولیس ڈپٹی کمشنر مائیک بش نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعے کے بعد بڑے لیول پر تحقیقات کی جا رہی ہیں سپیشلسٹ پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ملک بھر میں 250 جاسوس اور دیگر اہلکار تحقیقات میں مصروف ہیں۔ ایف بی آئی۔آسٹریلوی ایجنسیاں بھی نیوزی لینڈ کی پولیس کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

وزیراعظم آرڈن نے کرائسٹ چرچ حملے میں جاں بحق افراد کی یاد میں تعزیتی کتاب میں تاثرات درج کیے انہوں نے لکھا ہم ایک ہیں یہ ہمارا مشترکہ دکھ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *