مشال قتل کیس

نیوز ڈیسک

انسداد دہشت گردی عدالت نے 12 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جبکہ 16 مارچ کو نامعلوم وجوہات کی بناء پر کیس کا فیصلہ موخر کیا گیا تھا۔ کیس میں مشال کے والد سمیت 46 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

ستمبر 2018 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس میں ملوث 4 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔
مشال قتل میں پہلا فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت ابیٹ آباد نے 7 فروری 2018 کو دیا تھا۔ کیس کی سماعت ہری پور جیل میں ہوئی تھی۔

عدالت نے 58 میں سے 31 ملزمان کو مجرم ٹھہرایا تھا جبکہ 26 کو بری کیا تھا۔ عدالت نے مجرم عمران علی کو سزائے موت. 5 کو عمر قید اور 25 دیگر مجرمان کو 3 برس قید سنائی تھی۔

اے ٹی سی نے ہری پور جیل میں مقدمے کی سماعت کے دوران 26 افراد کو عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ ابیٹ آباد بینج نے تین تین سال قید کی سزا والے 25 مجرمان کی ضمانت منظور کی تھی۔
واضح رہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں 13 اپریل 2017 کو جرنلزم کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔

واقعے کے دن ہی اس قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کردیا گیا تھا۔واقعے کے بعد سپریم کورٹ نےاز خود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی۔جے آئی ٹی نے مشال کوبے قصور قرار دیا جب کہ مقدمے میں ویڈیو کی مدد سے 61 ملزمان کونامزدکیاگیا جن میں سے 58 گرفتار ہیں جن میں فائرنگ کا اعتراف کرنے والا ملزم عمران بھی شامل ہے جبکہ پی ٹی آئی کا تحصیل کونسلر عارف ،طلباء تنظیم کا رہنما صابر مایار اوریونیورسٹی کا ایک ملازم اسدضیاتاحال مفرور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *