بھارتی عدالت کی ناانصافی، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کے چاروں ملزمان بری

نیوز ڈیسک

12 سال قبل 18 فروری 2007 کی ہولناک رات کو بھارت کے شہر ہریانہ میں سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں ٹرین کی دو بوگیوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے 68 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ۔ان میں اکثریت پاکستانی مسافروں کی تھی ۔بھارت نے اس دھماکے کی ذمہ داری پاکستانی تنظیموں پر ڈالی تھی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ حملہ آور بھارتی تھے اور ان کو بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل پرساد نے اسلحہ فراہم کیا تھا۔سمجھوتہ ایکپریس دھماکے میں اصل ملزم سوامی اسیم آنند ہے جس  کا تعلق ایک شدت پند تنظیم  ابیھنو بھارت  سے ہے۔

اس مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ ملزمان تھے، جن میں سے ایک سنیل جوشی 2007 میں قتل کر دیے گئے تھے۔ تین دیگر ملزمان سندیپ ڈانگے، رام چندر کلسانگرا اور امیت فرار ہیں۔سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں 300 گواہ تھے، جب کہ 3سال میں سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے درجنوں گواہ منحرف ہوئے۔عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے  پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی گواہی کی درخواست بھی  رد کر دی۔

عدالت کی جانب  سے سوامی آسیم آنند عرف نبا کمار سرکار کیس کا مرکزی ملزم، کمال چوہان راجندر چوہدری اور لوکیش شرما کو بھی رہا کردیا گیا۔مجھوتہ ایکپریس کے مقدمے میں 224 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ عدالت نے 13 پاکستانی گواہوں کو بھی پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے کئی بار سمن بھیجا لیکن ان میں سے کسی نے بھی گواہی نہیں دی۔سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی بریت پر دفتر خارجہ نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ  ملزمان کی رہائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا کہ اس سانحے میں بیالیس سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے تھے ان کو کیا جواب دیا جائے۔

چاروں مجرموں کی رہائی کے فیصلے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ قائم مقام سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کر کے مجرموں کی رہائی کی شدید مذمت کی ہے۔

بھارت نے اس دھماکے کی ذمہ داری پاکستانی تنظیموں پر ڈالی تھی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ حملہ آور بھارتی تھے اور ان کو بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل پرساد نے اسلحہ فراہم کیا تھا۔سمجھوتہ ایکپریس دھماکے میں اصل ملزم سوامی اسیم آنند ہے جس  کا تعلق ایک شدت پند تنظیم  ابیھنو بھارت  سے ہے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ ملزمان تھے، جن میں سے ایک سنیل جوشی 2007 میں قتل کر دیے گئے تھے۔ تین دیگر ملزمان سندیپ ڈانگے، رام چندر کلسانگرا اور امیت فرار ہیں۔سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں 300 گواہ تھے، جب کہ 3سال میں سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے درجنوں گواہ منحرف ہوئے۔عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے  پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی گواہی کی درخواست بھی  رد کر دی۔عدالت کی جانب  سے سوامی آسیم آنند عرف نبا کمار سرکار کیس کا مرکزی ملزم، کمال چوہان راجندر چوہدری اور لوکیش شرما کو بھی رہا کردیا گیا۔مجھوتہ ایکپریس کے مقدمے میں 224 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

عدالت نے 13 پاکستانی گواہوں کو بھی پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے کئی بار سمن بھیجا لیکن ان میں سے کسی نے بھی گواہی نہیں دی۔سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی بریت پر دفتر خارجہ نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ  ملزمان کی رہائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا کہ اس سانحے میں بیالیس سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے تھے ان کو کیا جواب دیا جائے۔ چاروں مجرموں کی رہائی کے فیصلے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

قائم مقام سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کر کے مجرموں کی رہائی کی شدید مذمت کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *