شہباز شریف نے سرکاری جہاز استعمال کرکے قوم کے 35 کروڑ روپے اڑا دیے‎

نیوز ڈیسک

اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کا نیب پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ہر کیس کھولنے کے بجائے نیب کو مخصوص مقدمات پر توجہ دینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک پر 30 ہزار کروڑ روپے کا قرض چڑھانے والے قومی مجرم ہیں۔ شہباز شریف نے سرکاری جہاز استعمال کرکے 35 کروڑ روپے اڑا دیے۔ پہلے شریف خاندان شور مچا رہا تھا اب زرداری خاندان شور مچا رہا ہے۔ نواز شریف نے بیرون ملک اپنے بیٹوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے کیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مڈل کلاس سے آئے ہیں انہیں وقت ملنا چاہیے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ریٹنگ نیچے جا رہی ہے. بھارت میں الیکشن تک خطرہ ہے پاکستان کو تیار رہنا چاہیے۔

پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں عام انتخابات تک ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بلوچستان میں دشمن کی دہشت گردی بڑھنے کی انٹیلی جنس رپورٹس ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن جیتنے کے لیے مودی سرکار کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی مسلح افواج.حکومت اور قوم ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہردم تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کو ایسی کسی بھی صورتحال کے باوجود کوئی فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔ ہر جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت کے علاوہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنا رہے ہیں۔

ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کا بڑا مسئلہ اسے دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط شروع میں سخت تھیں لیکن اب حالات کنٹرول میں ہیں۔ آئندہ تین ہفتوں میں ملک کے لیے اچھی خبر آئے گی۔ اسی اچھی خبر کی بنیاد پر ملکی مسائل حل ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ہمیں دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں بڑے بڑے کنویں ہیں جہاں اربوں روپے چلے جاتے ہیں۔قومی ایئر لائن میں سیاسی بھرتیاں ہیں اور پی آئی اے میں خسارہ 400 ارب روپے ہے۔ پی آئی اے کو پاؤں پر کھڑا کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ اسٹیٹ لائف میں بھی خسارہ 50 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بیوروکریٹ فیصلے نہیں کر رہے جس سے حکومت کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ بیوروکریٹ سمجھتے ہیں جتنی انکوائریاں کھل چکی ہیں نیب کے پاس افرادی قوت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب بڑے بڑے لوگوں کو عبرتناک سزائیں دے گا۔بڑوں کو سزا ملنے پر چھوٹے بدعنوان خودبخود راہ راست پر آجائیں گے۔

نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا۔ لیکن سابقہ حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔

عمران خان نے کہا کہ پلوامہ واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں۔ لیکن جیسے ہی جیش محمد کا نام لیا گیا تو سب کی انگلیاں پاکستان پر اٹھنے لگیں۔اب ہم کالعدم تنظیموں کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ انہیں ختم کرکے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *